بنگلورو،31؍اکتوبر(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی حکمران اتحاد کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ان کے فرزند راکیش سدرامیا کی موت کے تعلق سے جناردھن ریڈی نے بیان دینے کے بعد معذرت خواہی کی ہے وہ اتنے تنگ دل نہیں ہیں کہ انہیں معاف نہ کریں۔
آج شیموگہ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ کسی بھی سیاست دان کواپنی بیان بازی کے مرحلے میں احتیاط برتنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کسی نے غلطی کی ہے تو اسے معاف کردینا بہت بڑی بات ہے، لیکن ان کے فرزند کی موت کے تعلق سے جناردھن ریڈی نے جو بات کہی ہے کیا شہری سماج میں اس طرح کی باتوں کو برداشت کرنا ممکن ہے؟۔ جناردھن ریڈی کے اس الزام پر کہ سدرامیا نے ہی انہیں جیل بھیجاتھا، سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس ملک کے تحت قانون، عدالت ، ثبوت اور گواہی کا ایک نظام قائم ہے، کسی کو بھی صرف وزیر اعلیٰ یا کسی اور کے کہنے سے جیل بھیجنے کا طریقۂ کار ہمارے ملک میں تو رائج نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ جناردھن ریڈی نے اپنی کرتوت کی سزا پائی ہے اس کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا اور اپنے جیل جانے کے سبب ہوئی بددعا کو میرے بیٹے کی موت سے جوڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جناردھن ریڈی کو انسانیت سے کچھ لینا دینانہیں ہے۔ہمیشہ انہوں نے ایک مجرم کی طرح ہی سوچا ہے ۔ سدرامیانے کہاکہ انتخابات کے مرحلے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی عام بات ہے ، لیکن اس طرح کے حساس معاملوں کو سیاسی فائدے کے لئے آج تک کسی سیاست دان نے استعمال نہیں کیا ، کسی کی ذاتی زندگی اور خاندان سے جڑے معاملوں کو سامنے رکھ کر انتخاب لڑنے کی بجائے بی جے پی لیڈروں کو چاہئے کہ ترقی کو اپنا محاذ بنائیں اور ریاستی حکومت کی کوتاہیوں کو اجاگر کریں ، ایسے مرحلے میں جبکہ بی جے پی کے پاس حکومت کی کوتاہیوں کو عوام کے سامنے رکھنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
جناردھن ریڈی نے کانگریس کو نشانہ بنانے کا غیر مہذب طریقہ اپنایا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ یڈیورپا کو ہمیشہ صرف وزیراعلیٰ کی کرسی ہی نظر آرہی ہے، شیموگہ حلقے کی ترقی کے لئے یڈیورپا کی طر ف سے کچھ نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ صرف ایک حلقے کاضمنی انتخاب نہیں بلکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کو بے دخل کرنے کی شروعات ہے۔ کرناٹک کے ضمنی انتخابات میں عوام جو فرمان جاری کریں گے۔ ملک کا مستقبل بھی اسی روش کی طرف بڑھے گا۔